صفحہ اول / منشور
اغراض و مقاصد
Aims and Objectives
کونسل کے چودہ مقاصد، جو دستور کا باب سوئم، دفعہ 4 میں درج ہیں اور مرکزی مجلسِ عاملہ نے 15 اگست 2015 کو ان کی منظوری دی۔
متحدہ علماء مشائخ کونسل آف پاکستان کا بنیادی عقیدہ اور نصب العین دین مبین اسلام ہے جس کا ماخذ مقدس قرآن کریم، سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حدیث نبوی اور ملک میں رائج آئین پاکستان ہے۔ جبکہ منزل نظام مصطفیٰ کا نفاذ ہے جس کے بعد ملک میں حقیقی جمہوریت، ترقی، امن اور خوشحالی کا قیام ممکن ہوگا۔
اغراض و مقاصد
متحدہ علماء مشائخ کونسل آف پاکستان کے اغراض و مقاصد درج ذیل ہوں گے۔
- 01
دو قومی نظریہ اور قومی تشخص
دو قومی نظریہ کے فروغ، اسلامی تشخص، قومی اقدار و ثقافت، روایات، ملک و قوم کی سلامتی، دفاع اور استحکام کے لئے ہر قسم کے اقدامات کرنا۔
- 02
نظامِ مصطفیٰ کا نفاذ
ملک میں نظامِ مصطفیٰؐ کے نفاذ کے لئے صدقِ دل سے جدوجہد کرنا، اس کی آگاہی مہم کے لئے ذرائع ابلاغ، لٹریچر، کانفرنسز اور سیمینارز کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کرنا، نیز غیر شرعی و غیر اخلاقی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرنا۔
- 03
امن، رواداری اور معاشرتی ہم آہنگی
معاشرے میں اتحاد و یگانگت، قیامِ امن، بھائی چارے، رواداری، برداشت اور بقائے باہمی کے لئے فضا سازگار بنانا، اور انتہا پسندی و دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کردار ادا کرنا۔
- 04
نظریاتی و علاقائی دفاع
ملک کی نظریاتی اساس کا دفاع، سرحدات کا تحفظ اور استحکام کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا، اور نظریے و عقیدے کی پختگی کے لئے ہر سطح پر جدوجہد کرنا۔
- 05
جمہوریت اور قانون کی بالادستی
جمہوریت، جمہوری اداروں، انسانی حقوق، سماجی انصاف کے تحفظ و فروغ، قانون کی بالادستی اور انصاف کی حکمرانی کے لئے کردار ادا کرنا۔
- 06
خانقاہی نظام کا تحفظ
خانقاہی نظام، اسلامی درسگاہوں اور مساجد کا احیاء و استحکام اور ان کی حفاظت کرنا، نیز تمام مذاہب و ادیان کی عبادت گاہوں کے تقدس و تحفظ کو یقینی بنانا۔
- 07
باہمی مکالمہ اور رواداری
عوام کے ذہنوں سے احساسِ محرومی و تحفظات دور کرنا، لسانی، نسلی، علاقائی اور قبیلائی تعصبات دور کرنا، اور مسالک کے درمیان خلیج کو افہام و تفہیم اور مکالمہ سے دور کرنا۔
- 08
قدرتی آفات میں امداد
سماوی و قدرتی آفات اور ہنگامی صورتحال میں متاثرین کی رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق کے بغیر ہر ممکن امداد کرنا۔
- 09
نوجوان نسل اور جدید علوم
نوجوانوں میں ملک کے ساتھ وابستگی کا قومی جذبہ بیدار کرنا، جدید علوم و فنون اور تحقیق کا رجحان پیدا کرنا، غیر اسلامی و غیر اخلاقی رسومات و عادات سے بچانے کی ترغیب دینا، اور انہیں تعلیم، روزگار اور کاروبار کے مواقع فراہم کرنا۔
- 10
اردو اور علاقائی زبانیں
قومی زبان اردو اور تمام علاقائی زبانوں، تہذیبوں اور قومی ثقافت کی ترویج و اشاعت اور ان کی ترقی و تحفظ کے اقدامات کرنا، نیز اس کے فروغ کے لئے لٹریچر فراہم کرنا۔
- 11
خواتین کو بااختیار بنانا
خواتین کو معاشرے میں باعزت مقام اور مساوی حقوق دلانا، انہیں جمہوری اداروں میں آبادی کے تناسب سے نمائندگی دلانا، ان کی ترقی کے لئے تعلیم، روزگار اور کاروبار کی حوصلہ افزائی کرنا، نیز وومن ایمپاورمنٹ کے لئے کوششیں کرنا۔
- 12
مسئلہ کشمیر
مسئلہ کشمیر کا اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق پرامن حل، نیز کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے لئے ہر سطح پر کوششیں کرنا۔
- 13
ناموسِ رسالت اور ختمِ نبوت
ناموسِ رسالت و ختمِ نبوت کے تحفظ کے لئے ہر پلیٹ فارم پر دفاع کرنا اور ملک میں عملی طور پر شریعتِ محمدیؐ کا نفاذ کرانا۔
- 14
دہشت گردی کے خلاف متحدہ لائحہ عمل
دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ریاست اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں سے ایک ایجنڈے پر متفق ہونا، اور اس ضرورت کو ترجیح دینا۔
یہ منشور کوئی حتمی دستاویز نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ دیئے گئے طریقہ کار کے مطابق وقت کے ساتھ اس میں تبدیلیاں ہوتی رہیں گی، تاہم یہ کوشش ہے کہ اس دستور میں وضع کردہ نصب العین اور مقاصد پر عملی طور پر ملک کی ترقی و فلاح اور اصلاح کا حقیقی کردار صادق جذبے کے ساتھ ادا کیا جائے۔
