الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ 22 اکتوبر 2014 سے رجسٹرڈ

صفحہ اول /  دستور

متحدہ علماء مشائخ کونسل آف پاکستان کا دستور اساسی

The Basic Constitution of the Muttahida Ulema Mashaikh Council of Pakistan

مرکزی مجلسِ عاملہ نے 15 اگست 2015 کو مرکزی مجلسِ عاملہ کا اجلاس، فلیش مین ہوٹل، راولپنڈی چھاؤنی میں منظوری دی۔

دستورِ اساسی کا ابتدائی صفحہ
اصل دستاویز کا سرورق
منظوری

بانی قیادت کے دستخطوں کے ساتھ جاری کردہ

دستور و منشور مرکزی مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں پیش کیا گیا جسے حاضر ارکان نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ منظوری کے بعد حتمی مسودہ درج ذیل دستخطوں کے ساتھ بطور نافذ العمل جاری کیا گیا۔

  • ملک صفدر علی اعوانمرکزی چیئرمین
  • ملک شاہد اعوانچیئرمین، منشور کمیٹی
  • سردار محمد طاہر تبسمسیکرٹری، منشور کمیٹی
باب اول

نام اور دائرہ کار

دفعہ 1نام اور دائرہ کار

پارٹی کا نام متحدہ علماء مشائخ کونسل آف پاکستان ہوگا جس کا دائرہ کار پاکستان (چاروں صوبہ جات)، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور بیرونِ ممالک، جہاں پاکستانی و کشمیری تارکینِ وطن آباد ہیں، ہوگا۔ تاہم ضرورت اور حالات کے مطابق اس میں توسیع کی جاسکتی ہے۔

باب دوئم

اصلاحات / معنی

دفعہ 2دستور میں مستعمل اصلاحات

دستور ھذا میں درج ذیل اصلاحات والفاظ جہاں بھی درج ہیں، ان کے معنی و مفہوم وہی ہوں گے جو ان کے سامنے لکھے گئے ہیں۔

پارٹی / کونسل
دستور ھذا کے تحت قائم متحدہ علماء مشائخ کونسل آف پاکستان۔
رکن / عہدیدار
پاکستان کا ہر وہ شخص جو دستور ھذا کے تحت پارٹی کی رکنیت حاصل کرے۔
چیئرمین
متحدہ علماء مشائخ کونسل آف پاکستان کا سربراہ۔
بورڈ / ونگ
پارٹی کے اس دستور کے تحت مختلف شعبہ جات کی غرض سے قائم ہونے والے بورڈ / ونگ کونسل۔
مجلسِ عاملہ
دستور ھذا کے مطابق ہر سطح پر تشکیل شدہ مجلسِ عاملہ۔
جنرل کونسل
متحدہ علماء مشائخ کونسل آف پاکستان کی مرکزی جنرل کونسل۔
قواعد
دستور ھذا میں درج مقاصد کی تکمیل و پارٹی امور کی انجام دہی کے لئے وضع کردہ قواعد۔
فنڈ
دستور ھذا کے تحت وصول ہونے والی وہ رقم جو پارٹی کو چلانے کے لئے مختلف ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔
یونٹ
سٹی، تحصیل، ٹاؤن، تعلقہ، ضلع، ڈویژن، صوبہ وغیرہ کی حدود میں قائم ہونے والی تنظیم۔
باب سوئم

نصب العین اور اغراض و مقاصد

دفعہ 3نصب العین

متحدہ علماء مشائخ کونسل آف پاکستان کا بنیادی عقیدہ اور نصب العین دین مبین اسلام ہے، جس کا ماخذ مقدس قرآن کریم، سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حدیث نبوی اور ملک میں رائج آئین پاکستان ہے۔ جبکہ منزل نظامِ مصطفیٰ کا نفاذ ہے، جس کے بعد ملک میں حقیقی جمہوریت، ترقی، امن اور خوشحالی کا قیام ممکن ہوگا۔

دفعہ 4اغراض و مقاصد

کونسل کے اغراض و مقاصد چودہ شقوں میں درج ہیں، جو مکمل طور پر منشور کے صفحے پر ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔

تمام چودہ مقاصد پڑھیں
باب چہارم

شرائطِ رکنیت / تجدید / منسوخی / بحالی کا طریقِ کار

دفعہ 5شرائطِ رکنیت

پارٹی کی رکنیت کے خواہشمند شخص کے لئے درج ذیل شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔

  1. 1ملک کا باشندہ ہو، اور اس کی عمر 18 سال سے کم نہ ہو۔
  2. 2اس بات کا اقرار کرے کہ وہ پارٹی کے دستور و منشور سے متفق ہے۔
  3. 3کسی سرکاری ادارے کا ملازم نہ ہو۔
  4. 4رکنیت فارم پر کرے اور مقررہ فیس ادا کرے۔

دفعہ 6تجدیدِ رکنیت

پارٹی کی رکنیت کی تجدید ہر چار سال بعد ہوگی۔

دفعہ 7رکنیت کی معطلی / منسوخی

درج ذیل صورتوں میں رکن کی رکنیت معطل یا منسوخ ہوجائے گی۔

  1. 1پارٹی کی رکنیت سے ازخود تحریراً یا اعلانیہ طور پر مستعفی ہوجائے۔
  2. 2پارٹی کے نظم و ضبط کی صریحاً خلاف ورزی کا مرتکب ہو۔
  3. 3پارٹی کی پالیسی کے خلاف بیانات دے، گفتگو کرے، یا منفی طرزِ عمل اختیار کرے۔
  4. 4اس کی رکنیت کی معطلی یا منسوخی کے لئے متعلقہ تنظیم کے عہدیداروں نے باضابطہ تحریری سفارش کی ہو، تاہم رکنیت کی منسوخی کا اختیار مرکزی چیئرمین کو ہوگا۔
  5. 5شق 2 کے حوالے سے اگر معاملہ مجلسِ عاملہ کے کسی رکن یا کسی بھی سطح کے عہدیدار سے متعلق ہو تو مرکزی چیئرمین یہ معاملہ کمیٹی یا مرکزی مجلسِ عاملہ میں پیش کرے گا۔

دفعہ 8رکنیت کی بحالی

جس رکن کی رکنیت کسی مجلسِ عاملہ یا کمیٹی نے معطل کی ہو، اس پر نظرثانی کا اختیار صرف مرکزی چیئرمین کو ہوگا، جس کے لئے تحریری استدعا درکار ہوگی۔

ترمیم سے متعلق نوٹ

یہ منشور کوئی حتمی دستاویز نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ دیئے گئے طریقہ کار کے مطابق وقت کے ساتھ اس میں تبدیلیاں ہوتی رہیں گی، تاہم یہ کوشش ہے کہ اس دستور میں وضع کردہ نصب العین اور مقاصد پر عملی طور پر ملک کی ترقی و فلاح اور اصلاح کا حقیقی کردار صادق جذبے کے ساتھ ادا کیا جائے۔

مکمل متن کی درخواست